عمر رسیدہ افراد احساسِ حاکمیت کے لیے مزاحمتی رویہ اختیار کر لیتے ہیں

Hamza Ali
0

 یو کاسل: اب تک تو صرف بچے ہی اپنی بات منوانے کے لیے بڑوں کو سرنگوں کرتے تھے لیکن ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ بہت عمر رسیدہ افراد بھی معاملات پر اپنی گرفت کے احساس کے لیے مزاحمتی رویہ اختیار کر لیتے ہیں۔

یو کاسل: اب تک تو صرف بچے ہی اپنی بات منوانے کے لیے بڑوں کو سرنگوں کرتے تھے لیکن ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ بہت عمر رسیدہ افراد بھی معاملات پر اپنی گرفت کے احساس کے لیے مزاحمتی رویہ اختیار کر لیتے ہیں۔  یونیورسٹی آف یارک اور نیو کاسل یونیورسٹی کے محققین نے 90 کی دہائی میں موجود افراد کے ایک گروپ کا انٹرویو لیا تاکہ یہ جانچا جاسکے کہ بڑھاپے میں زندگی کو مثبت رکھنے کے لیے اہم عوامل کونسے ہوسکتے ہیں۔  تحقیق میں ایسے کچھ عوامل سامنے آئے جو ان بوڑھے افراد کو مثبت زندگی گزارنے پر کاربند رکھے ہوئے تھے۔ مجموعی طور پر ان بوڑھے افراد کے بڑھاپے میں خوش ہونے کی وجوہات ان کی ماضی کی کامیابیاں، صحت کی ضروریات پورا کرنے کی صلاحیت اور معقول انداز میں پیش ہونے پر مشتمل تھیں۔  البتہ، بوڑھے افراد کو خوش رکھنے میں سب سے اہم چیز ان کی حاکمیت کے احساس کا برقرار رہنا تھا جس میں ان لوگوں کے خلاف بھی مزاحمت شامل ہے جو ان عمر رسیدہ افراد کی مدد کرنا چاہتے تھے۔  ان معمولی سے مزاحمتی افعال میں دیکھ بھال کرنے والوں کو کام کرنے کا ڈھنگ بتانا، دوا کھانے سے انکار کرنا اور مستقبل کے متعلق منصوبہ بندی نہ کرنا وغیرہ شامل ہیں۔  تحقیق میں محققین نے 97 سے 99 سال کے درمیان 23 افراد کا انٹرویو لیا۔ جس کا مرکز ان کے معاشرے کے عمر رسیدہ افراد ہونے کے فوائد و نقصانات سے تھا اور انٹرویو میں ان کو ان کی انفرادی زندگی کے حساب سے دیکھا گیا۔

یونیورسٹی آف یارک اور نیو کاسل یونیورسٹی کے محققین نے 90 کی دہائی میں موجود افراد کے ایک گروپ کا انٹرویو لیا تاکہ یہ جانچا جاسکے کہ بڑھاپے میں زندگی کو مثبت رکھنے کے لیے اہم عوامل کونسے ہوسکتے ہیں۔

تحقیق میں ایسے کچھ عوامل سامنے آئے جو ان بوڑھے افراد کو مثبت زندگی گزارنے پر کاربند رکھے ہوئے تھے۔

مجموعی طور پر ان بوڑھے افراد کے بڑھاپے میں خوش ہونے کی وجوہات ان کی ماضی کی کامیابیاں، صحت کی ضروریات پورا کرنے کی صلاحیت اور معقول انداز میں پیش ہونے پر مشتمل تھیں۔

البتہ، بوڑھے افراد کو خوش رکھنے میں سب سے اہم چیز ان کی حاکمیت کے احساس کا برقرار رہنا تھا جس میں ان لوگوں کے خلاف بھی مزاحمت شامل ہے جو ان عمر رسیدہ افراد کی مدد کرنا چاہتے تھے۔

ان معمولی سے مزاحمتی افعال میں دیکھ بھال کرنے والوں کو کام کرنے کا ڈھنگ بتانا، دوا کھانے سے انکار کرنا اور مستقبل کے متعلق منصوبہ بندی نہ کرنا وغیرہ شامل ہیں۔

تحقیق میں محققین نے 97 سے 99 سال کے درمیان 23 افراد کا انٹرویو لیا۔ جس کا مرکز ان کے معاشرے کے عمر رسیدہ افراد ہونے کے فوائد و نقصانات سے تھا اور انٹرویو میں ان کو ان کی انفرادی زندگی کے حساب سے دیکھا گیا۔

Tags

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)