بیت الخلا کی ’آوازیں‘ سن کر ڈائریا کی خبر دیکھنے والا اے آئی نظام

Hamza Ali
0

 جارجیا: مصنوعی ذہانت کا ایک دلچسپ استعمال اب بیت الخلا میں بھی سامنے آیا ہے۔ اس میں ایک حساس مائیک بیت الخلا سے آنے والی آوازوں کا تجزیہ کرتا ہے بلکہ اس کی بنا پر 98 فیصد درستگی سے اسہال (ڈائریا) کی  پیشگوئی کی جاسکتی ہے جبکہ کسی عوامی یا مصروف مقام کے ٹوائلٹ کے ڈیٹا سے وہاں ہیضے کی وبا کی پیشگوئی بھی کی جاسکتی ہے۔

جارجیا: مصنوعی ذہانت کا ایک دلچسپ استعمال اب بیت الخلا میں بھی سامنے آیا ہے۔ اس میں ایک حساس مائیک بیت الخلا سے آنے والی آوازوں کا تجزیہ کرتا ہے بلکہ اس کی بنا پر 98 فیصد درستگی سے اسہال (ڈائریا) کی  پیشگوئی کی جاسکتی ہے جبکہ کسی عوامی یا مصروف مقام کے ٹوائلٹ کے ڈیٹا سے وہاں ہیضے کی وبا کی پیشگوئی بھی کی جاسکتی ہے۔  جارجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی مایا گیٹلن اور ان نے ساتھیوں نے یوٹیوب اور ساؤنڈ اسنیپ نامی ڈیٹا بی سے بیت الخلا کی 350 مختلف آوازیں ریکارڈ کی ہیں۔ ان آوازوں میں عام حالات کی رفع حاجت، ڈائریا، پیشاب کرنے اور پیٹ میں گیس بھرنے کی آوازیں شامل تھیں۔  اس کے بعد سائنسدانوں نے جمع شدہ 70 فیصد آوازوں کو مصنوعی ذہانت والے سافٹ ویئر میں ڈال کر اس الگورتھم کو رفع حاجت کی چاروں اقسام میں فرق کرنے کی تربیت دی۔ پھر اگلے مرحلے میں جب انہیں یقین ہوگیا کہ مصنوعی ذہانت اس قابل ہوگئی ہے تو اس پر باقی بچ رہنے والے 10 فیصد ڈیٹا کو آزمایا گیا۔ اس کے بعد مزید بچ جانے والی 20 فیصد ریکارڈشدہ آوازوں کو حتمی طور پر سافٹ ویئر پر آزمایا گیا۔ معلوم ہوا کہ یہ نظام بیت الخلا کی آواز سن کر 98 فیصد درست طور پر بتا سکتا ہے کہ اسے اسہال ہے یا نہیں، تاہم ضروری ہے کہ لوگوں کی بات چیت اور دیگر اقسام کے شور کو کم کیا جائے ورنہ اس کی درستگی کم ہوکر 96 فیصد تک رہ جاتی ہے۔  اس کے علاوہ عوامی ٹوائلٹ پر مائیکروفون لگا کر کسی بھی علاقے میں دست، اسہال اور ہیضے کی وبا کا تعین بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس نظام میں حساس مائیکرو فون، ڈائریا ڈٹیکٹر نامی مائیکرو پروسیسر شامل ہے جو سافٹ ویئر کی بدولت پر صحت کی پیشگوئی کرتا ہے۔ اس طرح آوازوں کے سگنل کو بہت باریکی سے سنا اور پروسیس کیا جاتا ہے۔  تاہم یہ بات طے ہے کہ بیت الخلا کی بناوٹ سے آوازوں پر فرق پڑسکتا اور امریکا یا یورپ جیسے بیت الخلا دنیا بھر میں نہیں پائے جاتے۔ تاہم پروفیسر مایا کی ٹیم نے مزید حقیقی آوازوں کی ریکارڈنگ کرنے اور ان کی آزمائش کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

جارجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی مایا گیٹلن اور ان نے ساتھیوں نے یوٹیوب اور ساؤنڈ اسنیپ نامی ڈیٹا بی سے بیت الخلا کی 350 مختلف آوازیں ریکارڈ کی ہیں۔ ان آوازوں میں عام حالات کی رفع حاجت، ڈائریا، پیشاب کرنے اور پیٹ میں گیس بھرنے کی آوازیں شامل تھیں۔

اس کے بعد سائنسدانوں نے جمع شدہ 70 فیصد آوازوں کو مصنوعی ذہانت والے سافٹ ویئر میں ڈال کر اس الگورتھم کو رفع حاجت کی چاروں اقسام میں فرق کرنے کی تربیت دی۔ پھر اگلے مرحلے میں جب انہیں یقین ہوگیا کہ مصنوعی ذہانت اس قابل ہوگئی ہے تو اس پر باقی بچ رہنے والے 10 فیصد ڈیٹا کو آزمایا گیا۔ اس کے بعد مزید بچ جانے والی 20 فیصد ریکارڈشدہ آوازوں کو حتمی طور پر سافٹ ویئر پر آزمایا گیا۔

معلوم ہوا کہ یہ نظام بیت الخلا کی آواز سن کر 98 فیصد درست طور پر بتا سکتا ہے کہ اسے اسہال ہے یا نہیں، تاہم ضروری ہے کہ لوگوں کی بات چیت اور دیگر اقسام کے شور کو کم کیا جائے ورنہ اس کی درستگی کم ہوکر 96 فیصد تک رہ جاتی ہے۔

اس کے علاوہ عوامی ٹوائلٹ پر مائیکروفون لگا کر کسی بھی علاقے میں دست، اسہال اور ہیضے کی وبا کا تعین بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس نظام میں حساس مائیکرو فون، ڈائریا ڈٹیکٹر نامی مائیکرو پروسیسر شامل ہے جو سافٹ ویئر کی بدولت پر صحت کی پیشگوئی کرتا ہے۔ اس طرح آوازوں کے سگنل کو بہت باریکی سے سنا اور پروسیس کیا جاتا ہے۔

تاہم یہ بات طے ہے کہ بیت الخلا کی بناوٹ سے آوازوں پر فرق پڑسکتا اور امریکا یا یورپ جیسے بیت الخلا دنیا بھر میں نہیں پائے جاتے۔ تاہم پروفیسر مایا کی ٹیم نے مزید حقیقی آوازوں کی ریکارڈنگ کرنے اور ان کی آزمائش کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

Tags

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)