زخم بھرنے اور کھال بنانے والی ’خلوی گوند‘ کے حوصلہ افزا نتائج

Hamza Ali
0

 لاس اینجس: بعض زخم بھرنے کا نام نہیں لیتے اور کچھ مقامات پر کھال نہیں بن پاتی۔ اب اس کے علاج کے طور پر سائنسدانوں نے بعض سالمات (مالیکیول) کو کچھ اسطرح بدلا ہے کہ وہ ’خلوی گوند‘ کی طرح کام کرتے ہوئے اس کام کو تیز ترکرسکتے ہیں۔

لاس اینجس: بعض زخم بھرنے کا نام نہیں لیتے اور کچھ مقامات پر کھال نہیں بن پاتی۔ اب اس کے علاج کے طور پر سائنسدانوں نے بعض سالمات (مالیکیول) کو کچھ اسطرح بدلا ہے کہ وہ ’خلوی گوند‘ کی طرح کام کرتے ہوئے اس کام کو تیز ترکرسکتے ہیں۔  جامعہ کیلیفورنیا سان فرانسسکو کے مطابق ہمارے جسم میں فطری طورپر کئی کیمیائی اجزا ایسے ہیں جو کروڑوں اربوں خلیات کو جوڑے رکھتے ہیں کہ گویا وہ گوند کا کام کرتےہیں۔ اس دریافت کے بعد اعضا کی دوبارہ افزائش (ری جنریشن) کی راہ کھل سکے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب بدن میں کیمیائی گوند لاتعداد خلیات کو جوڑتی ہے تو تمام خلیات مل کر ایک واحد عضو کے طور پر کام کرتے ہیں۔  خلوی گوند سے چپکے ہوئے لاتعداد خلیات جسم کے اندر کئی ساختوں، اعصابی نظام اور دیگر اہم امور کی تشکیل کرتے ہیں۔ اس سے اعصابی خلیات ایک دوسرے سے رابطہ کرت ہیں اور پورا جسم گویا ایک اکائی کے طور پر کام کرتا ہے۔ نیچر میں 12 دسمبر کی اشاعت میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ماہرین نے سالماتی گوند کو اپنے لحاظ سے تبدیل کیا ہے۔ اس طرح وہ گوند کے جڑنے کے عمل کو کنٹرول کرسکتے ہیں۔ اس طرح ٹشو انجنیئرنگ کی نئی راہیں کھل سکیں گی۔  اگرچہ رحمِ مادر میں ہی ہمارے اعضا بننے لگتے ہیں اور یوں جوانی یا لڑکپن تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تاہم ایک موقع پر آگے مزید اعضا نہیں بنتے اور اگر کوئی نقصان ہوجائے تو بھی وہ نہیں اگتے۔ لیکن ماہرین چاہتے ہیں کہ کسی طرح زخم اور ناسور بھرسکیں یا جھلسنے سے متاثر ہونے والی جلد کو دوبارہ بحال کیا جاسکے۔  اب ماہرین نے جو گوند بنائی ہے وہ دوطرح سے کام کرتی ہے۔ اول سالمہ ایک ریسپٹر کی طرح کام کرکے فیصلہ کرتا ہے کہ باہر کے کس خلیے سے جڑنا ہے اور کسے چھوڑدینا ہے دوم، خلیے کے اندر اس کے جڑنے کی شدت کو کم یا زیادہ کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین اسے انجینیئرنگ کی بدولت طے کرتے ہیں اور یوں اسے مختلف اقسام کے خلیات سے جڑنے کے قابل بنایا جاسکتا ہے۔  اس اہم کامیابی کے بد اگلے مرحلے پر اسے کچھ جانوروں اور تجربہ گاہی ڈشوں پر آزمایا جائے گا۔ اگر یہ طریقہ کامیاب ہوجاتا ہے تو زخموں کو ٹھیک کرنے یا نئی کھال اگانے میں اہم پیشرفت متوقع ہے۔

جامعہ کیلیفورنیا سان فرانسسکو کے مطابق ہمارے جسم میں فطری طورپر کئی کیمیائی اجزا ایسے ہیں جو کروڑوں اربوں خلیات کو جوڑے رکھتے ہیں کہ گویا وہ گوند کا کام کرتےہیں۔ اس دریافت کے بعد اعضا کی دوبارہ افزائش (ری جنریشن) کی راہ کھل سکے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب بدن میں کیمیائی گوند لاتعداد خلیات کو جوڑتی ہے تو تمام خلیات مل کر ایک واحد عضو کے طور پر کام کرتے ہیں۔

خلوی گوند سے چپکے ہوئے لاتعداد خلیات جسم کے اندر کئی ساختوں، اعصابی نظام اور دیگر اہم امور کی تشکیل کرتے ہیں۔ اس سے اعصابی خلیات ایک دوسرے سے رابطہ کرت ہیں اور پورا جسم گویا ایک اکائی کے طور پر کام کرتا ہے۔

نیچر میں 12 دسمبر کی اشاعت میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ماہرین نے سالماتی گوند کو اپنے لحاظ سے تبدیل کیا ہے۔ اس طرح وہ گوند کے جڑنے کے عمل کو کنٹرول کرسکتے ہیں۔ اس طرح ٹشو انجنیئرنگ کی نئی راہیں کھل سکیں گی۔

اگرچہ رحمِ مادر میں ہی ہمارے اعضا بننے لگتے ہیں اور یوں جوانی یا لڑکپن تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تاہم ایک موقع پر آگے مزید اعضا نہیں بنتے اور اگر کوئی نقصان ہوجائے تو بھی وہ نہیں اگتے۔ لیکن ماہرین چاہتے ہیں کہ کسی طرح زخم اور ناسور بھرسکیں یا جھلسنے سے متاثر ہونے والی جلد کو دوبارہ بحال کیا جاسکے۔

اب ماہرین نے جو گوند بنائی ہے وہ دوطرح سے کام کرتی ہے۔ اول سالمہ ایک ریسپٹر کی طرح کام کرکے فیصلہ کرتا ہے کہ باہر کے کس خلیے سے جڑنا ہے اور کسے چھوڑدینا ہے دوم، خلیے کے اندر اس کے جڑنے کی شدت کو کم یا زیادہ کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین اسے انجینیئرنگ کی بدولت طے کرتے ہیں اور یوں اسے مختلف اقسام کے خلیات سے جڑنے کے قابل بنایا جاسکتا ہے۔

اس اہم کامیابی کے بد اگلے مرحلے پر اسے کچھ جانوروں اور تجربہ گاہی ڈشوں پر آزمایا جائے گا۔ اگر یہ طریقہ کامیاب ہوجاتا ہے تو زخموں کو ٹھیک کرنے یا نئی کھال اگانے میں اہم پیشرفت متوقع ہے۔

Tags

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)