وزنی کمبلوں کا گہری نیند سے کیا تعلق ہے؟

Hamza Ali
0

 اُپسالا: وزنی کمبلوں کی فروخت میں اضافے کا سبب محض ایک رجحان نہیں بلکہ اس کے نیند پر مثبت اثر قرار دیا جا رہا ہے۔

سوئیڈش محققین کو تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے سوتے وقت وزنی کمبل اوڑھا ان میں ایک عام کمبل اوڑھنے والوں کی نسبت میلاٹونِن کی سطح 30 فی صد سے زیادہ تھی۔ میلاٹونِن ہارمون دماغ کے جانب سے قدرتی طور پر ہر رات خارج کیا جاتا ہے تاکہ کسی شخص کو تھکا ہوا محسوس کرا سکے اور ہماری اندرونی گھڑی کو ترتیب دے سکے۔  وزنی کمبلوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ عصبی نظام کو آرام دہ کرتا ہے، بے چینی کی کچھ علامات جیسے کہ دل کی تیز دھڑکن یا تیز سانس کو کم کرتا ہے۔ جب آپ تناؤ میں ہوتے ہیں تو آپ کا دل تیزی سے دھڑکتا ہے جو میلاٹونِن کی پیداوار کو روکتا ہے۔  سوئیڈن کی اُپسالا یونیورسٹی کے محققین نے 26 افراد کا دو راتوں تک معائنہ کیا۔ ایک رات میں شرکاء وزنی کمبل اوڑھ کر سوئے جبکہ دوسری رات انہوں نے معمول کی چادر استعمال کی۔  جرنل آف سلِیپ ریسرچ میں شائع ہونے والی تحقیق میں استعمال کیے جانے والے کمبلوں کے وزن کا موازنہ شرکاء کے وزن سے کیا گیا۔ کمبلوں کا وزن شرکاء کے وزن کا 12.2 فی صد تھا جبکہ معمول کی چادروں کا وزن 2.2 فی صد تھا۔  تحقیق میں شریک افراد رات 10 بجے کے قریب سو گئے اور 11 بجے تک ہر 20 منٹ کے وقفے پر ان کے لعاب کا نمونہ لیا گیا۔ نتائج میں معلوم ہوا کہ گھنٹے کے آخر میں وزنی کمبل اوڑھ کر سونے والوں میں میلاٹونِن کی پیداوار 32 فی صد زیادہ ہوئی تھی۔

سوئیڈن کی اُپسالا یونیورسٹی میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق وزنی کمبل گہری اور آرام دہ نیند کا سبب بننے والے ہارمون کی پیداوار میں اضافہ کرتے ہیں۔

سوئیڈش محققین کو تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے سوتے وقت وزنی کمبل اوڑھا ان میں ایک عام کمبل اوڑھنے والوں کی نسبت میلاٹونِن کی سطح 30 فی صد سے زیادہ تھی۔

میلاٹونِن ہارمون دماغ کے جانب سے قدرتی طور پر ہر رات خارج کیا جاتا ہے تاکہ کسی شخص کو تھکا ہوا محسوس کرا سکے اور ہماری اندرونی گھڑی کو ترتیب دے سکے۔

وزنی کمبلوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ عصبی نظام کو آرام دہ کرتا ہے، بے چینی کی کچھ علامات جیسے کہ دل کی تیز دھڑکن یا تیز سانس کو کم کرتا ہے۔ جب آپ تناؤ میں ہوتے ہیں تو آپ کا دل تیزی سے دھڑکتا ہے جو میلاٹونِن کی پیداوار کو روکتا ہے۔

سوئیڈن کی اُپسالا یونیورسٹی کے محققین نے 26 افراد کا دو راتوں تک معائنہ کیا۔ ایک رات میں شرکاء وزنی کمبل اوڑھ کر سوئے جبکہ دوسری رات انہوں نے معمول کی چادر استعمال کی۔

جرنل آف سلِیپ ریسرچ میں شائع ہونے والی تحقیق میں استعمال کیے جانے والے کمبلوں کے وزن کا موازنہ شرکاء کے وزن سے کیا گیا۔ کمبلوں کا وزن شرکاء کے وزن کا 12.2 فی صد تھا جبکہ معمول کی چادروں کا وزن 2.2 فی صد تھا۔

تحقیق میں شریک افراد رات 10 بجے کے قریب سو گئے اور 11 بجے تک ہر 20 منٹ کے وقفے پر ان کے لعاب کا نمونہ لیا گیا۔ نتائج میں معلوم ہوا کہ گھنٹے کے آخر میں وزنی کمبل اوڑھ کر سونے والوں میں میلاٹونِن کی پیداوار 32 فی صد زیادہ ہوئی تھی۔

Tags

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)