امریکا سفارتی سطح پر مذاکرات میں سنجیدہ نہیں، روس کا الزام

Hamza Ali
0

 ماسکو: روس نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا سفارتی بات چیت پر آمادگی تو دکھاتا ہے لیکن اس میں وہ سنجیدہ نہیں اور تعمیری انداز میں آگے نہیں بڑھا رہا ہے۔

ماسکو: روس نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا سفارتی بات چیت پر آمادگی تو دکھاتا ہے لیکن اس میں وہ سنجیدہ نہیں اور تعمیری انداز میں آگے نہیں بڑھا رہا ہے۔  عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس کے نائب وزیر خارجہ نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا یوکرین جنگ پر سفارتی سطح پر بات چیت کی بات تو کرتا ہے لیکن اس حوالے سے اب تک کوئی تعمیری قدم نہیں اُٹھایا۔ جس سے لگتا ہے کہ امریکا مذاکرات میں سنجیدہ نہیں۔   یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب روس اور امریکا کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ ہوا ہے اور یوکرین سے اناج کی فراہمی کا معاہدہ اقوام متحدہ اور ترکی ثالثی میں طے پایا جس میں امریکا کا بھی کردار تھا۔ قبل ازیں روسی انٹیلی جنس سروس کے سربراہ سرگئی ناریشکن اور امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز کi دو بدو ملاقات استنبول میں ہوچکی ہے جس کے لیے ترک صدر طیب اردوان نے اہم کردار ادا کیا تھا۔  رواں برس فروری میں روسی فوج کے یوکرین میں داخل ہونے سے شروع ہونے والی جنگ تاحال جاری ہے جس کے خاتمے کے لیے سب سے اہم اور متحرک کردار ترک صدر ادا کر رہے ہیں۔  ترک صدر طیب اردوان جنگ کے فریقین روس اور یوکرین کے قریب سمجھے جاتے ہیں اور وہ اس تعلق کو استعمال بھی کر رہے ہیں تاہم اب تک مذاکرات جنگ بندی کی جانب نہیں جا سکے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس کے نائب وزیر خارجہ نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا یوکرین جنگ پر سفارتی سطح پر بات چیت کی بات تو کرتا ہے لیکن اس حوالے سے اب تک کوئی تعمیری قدم نہیں اُٹھایا۔ جس سے لگتا ہے کہ امریکا مذاکرات میں سنجیدہ نہیں۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب روس اور امریکا کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ ہوا ہے اور یوکرین سے اناج کی فراہمی کا معاہدہ اقوام متحدہ اور ترکی ثالثی میں طے پایا جس میں امریکا کا بھی کردار تھا۔

قبل ازیں روسی انٹیلی جنس سروس کے سربراہ سرگئی ناریشکن اور امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز کi دو بدو ملاقات استنبول میں ہوچکی ہے جس کے لیے ترک صدر طیب اردوان نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

رواں برس فروری میں روسی فوج کے یوکرین میں داخل ہونے سے شروع ہونے والی جنگ تاحال جاری ہے جس کے خاتمے کے لیے سب سے اہم اور متحرک کردار ترک صدر ادا کر رہے ہیں۔

ترک صدر طیب اردوان جنگ کے فریقین روس اور یوکرین کے قریب سمجھے جاتے ہیں اور وہ اس تعلق کو استعمال بھی کر رہے ہیں تاہم اب تک مذاکرات جنگ بندی کی جانب نہیں جا سکے ہیں۔

 

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)