بائیں کندھے میں شدید درد اور لبلبے کے سرطان کا پہلا کیس سامنے آگیا

Hamza Ali
0

 واشنگٹن: امریکا میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا ہے جس میں مریض نے کئی ہفتوں تک بازو میں شدید درد کی شکایت کی ہے اور بعد میں اس کی وجہ لبلبے کے سرطان کو قرار دیا گیا ہے۔

واشنگٹن: امریکا میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا ہے جس میں مریض نے کئی ہفتوں تک بازو میں شدید درد کی شکایت کی ہے اور بعد میں اس کی وجہ لبلبے کے سرطان کو قرار دیا گیا ہے۔  ترقی پذیر ممالک میں لبلبے کا سرطان تمام کینسر میں چوتھے نمبر پر ہے اور اب ایک شخص میں سرطان کی اس قسم اور کاندھے کے بڑھتے ہوئے درد کے درمیان تعلق سامنے آیا جس پر ڈاکٹر توجہ دے رہے ہیں۔  صرف برطانیہ میں ہی ہر سال 9000 افراد اس کے ہاتھوں دم توڑ دیتے ہیں۔ سرطان کی اس قسم سے نکلنا بہت مشکل ہوتا ہے اور شناخت کے بعد بھی مریض چند سال ہی زندہ رہتا ہے۔ اسی لیے ماہرین اس سرطان کی ابتدائی شناخت کی سرتوڑ کوشش کرتے ہیں۔ لبلبہ ایک چھوٹا سا غدہ ہے جو نظامِ ہاضمہ اور خود گلوکوز کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔  امریکا میں 54 سالہ شخص کی روداد بطور کیس اسٹڈی امریکن جرنل آف گیسٹرواینٹرولوجی میں شائع ہوئے۔ اس نے بتایا کہ کندھے میں شدید درد شروع ہوا اور دھیرے دھیرے بڑھتا ہی چلا گیا۔ ہرروز درد بڑھتا رہا اور ایک دن اسے ہنگامی طور پر اسپتال لے جایا گیا۔ یہاں اس نے ڈاکٹروں کو بتایا کہ اس کے کندھے میں تین ہفتے سے تکلیف تھی جس کی شدت ہر گھنٹے میں بڑھتی ہی چلی گئی۔  نامعلوم شخص نے بتایا کہ الٹے کندھے میں درد بڑھ کر دھیرے دھیرے نیچے آرہا تھا اور ہاتھ گھمانا بھی مشکل ہورہا تھا اور کسی بھی دوا سے آرام نہیں مل رہا تھا۔ تاہم اس کی آنکھوں میں زردی مائل رنگ تیزی سے بڑھ رہا تھا جس کے بعد ڈاکٹروں نے سی ٹی اسکین اور بایوپسی بھی کروائی جس کے بعد ڈاکٹروں نے کینسر کی تصدیق بھی کی ہے۔  ڈاکٹروں کے مطابق لبلبے کا کینسر جسم کے دیگر مقامات تک پھیل چکا ہے اور کچھ ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ اس پر کیموتھراپی اثر نہیں کرے گی اور یوں اب ریڈیو تھراپی کی جارہی ہے۔

ترقی پذیر ممالک میں لبلبے کا سرطان تمام کینسر میں چوتھے نمبر پر ہے اور اب ایک شخص میں سرطان کی اس قسم اور کاندھے کے بڑھتے ہوئے درد کے درمیان تعلق سامنے آیا جس پر ڈاکٹر توجہ دے رہے ہیں۔

صرف برطانیہ میں ہی ہر سال 9000 افراد اس کے ہاتھوں دم توڑ دیتے ہیں۔ سرطان کی اس قسم سے نکلنا بہت مشکل ہوتا ہے اور شناخت کے بعد بھی مریض چند سال ہی زندہ رہتا ہے۔ اسی لیے ماہرین اس سرطان کی ابتدائی شناخت کی سرتوڑ کوشش کرتے ہیں۔

لبلبہ ایک چھوٹا سا غدہ ہے جو نظامِ ہاضمہ اور خود گلوکوز کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

امریکا میں 54 سالہ شخص کی روداد بطور کیس اسٹڈی امریکن جرنل آف گیسٹرواینٹرولوجی میں شائع ہوئے۔ اس نے بتایا کہ کندھے میں شدید درد شروع ہوا اور دھیرے دھیرے بڑھتا ہی چلا گیا۔ ہرروز درد بڑھتا رہا اور ایک دن اسے ہنگامی طور پر اسپتال لے جایا گیا۔ یہاں اس نے ڈاکٹروں کو بتایا کہ اس کے کندھے میں تین ہفتے سے تکلیف تھی جس کی شدت ہر گھنٹے میں بڑھتی ہی چلی گئی۔

نامعلوم شخص نے بتایا کہ الٹے کندھے میں درد بڑھ کر دھیرے دھیرے نیچے آرہا تھا اور ہاتھ گھمانا بھی مشکل ہورہا تھا اور کسی بھی دوا سے آرام نہیں مل رہا تھا۔ تاہم اس کی آنکھوں میں زردی مائل رنگ تیزی سے بڑھ رہا تھا جس کے بعد ڈاکٹروں نے سی ٹی اسکین اور بایوپسی بھی کروائی جس کے بعد ڈاکٹروں نے کینسر کی تصدیق بھی کی ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق لبلبے کا کینسر جسم کے دیگر مقامات تک پھیل چکا ہے اور کچھ ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ اس پر کیموتھراپی اثر نہیں کرے گی اور یوں اب ریڈیو تھراپی کی جارہی ہے۔

Tags

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)