پوری نیند خواتین کو عملی زندگی میں کامیاب بنا سکتی ہیں

Hamza Ali
0

  واشنگٹن: اگر آپ خاتون کی حیثیت سے کسی دفتر، اسکول یا ادارے سے وابستہ ہیں تو مکمل گہری نیند نہ صرف اگلے دن آپ کو پرعزم بناتی ہے بلکہ اس سے اپنے شعبے میں آگے بڑھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ جب خواتین پرسکون اور پورے وقت کی نیند لیتی ہیں تو ان کا مزاج بہتر ہوتا ہے، وہ قدرے زیادہ پرعزم ہوتی ہیں اور اپنے اہداف مکمل کرنے میں زیادہ دلچسپی لیتی ہیں۔ بصورتِ دیگر نیند کی کمی ان کے مثبت مزاج کو متاثر کرتی ہے اور وہ اپنے اہداف کی جانب زیادہ توجہ نہیں دیتیں۔  یہ تحقیق ’سیکس رولز‘ نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔ اس مطالعے میں ہر روز دوپہر کے بعد شرکا سے ان کی نیند اور اس وقت کے موڈ کے بارے میں سوالات کیے گئے تھے۔ پھر شام کو گھر جانے سے قبل ان کی ذمے داریوں کے احساس، کام میں دلچسپی اور جوش و عزم کے بارے میں بھی پوچھا گیا تھا۔  مرد اور خواتین، دونوں نے ہی اچھی اور بری نیند کا ذکر کیا لیکن مردوں کے مقابلے میں جس رات خواتین کی نیند متاثر ہوئی ان میں عزم کی کمی، کام سے لگاؤ میں عدم دلچسپی اور مجموعی پھرتی کی کمی محسوس کی گئی جو سوالنامے سے بھی عیاں ہوگئی۔  ماہرین کا خیال ہے کہ نیند کی کمی خواتین کو بہت زیادہ متاثر کرتی ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ گھروں تک محدود خواتین بھی اگر اپنی نیند پوری کریں تو وہ گھریلو کام کاج کو بہتر انداز میں کرسکتی ہیں جن میں بچوں کی تربیت جیسے اہم امور بھی شامل ہیں۔

یہ تحقیقی واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی نے کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جو کارکن خواتین اپنی پوری نیند لیتی ہیں ان کا موڈ بہتر رہتا ہے، اگلے دن دفاتر کے کام بھاری نہیں پڑتے اور وہ اپنے شعبے میں آگے بڑھ سکتی ہیں۔ تاہم عجیب بات یہ ہے کہ مردوں کو اس سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا ۔

اس ضمن میں مختلف اداروں میں کام کرنے والی 135 خواتین  اور مردوں کا دو ہفتے تک سروے کیا گیا ہے۔ مطالعے سے پہلے ان کا موڈ، آرام کے اوقاتِ کار اور اگلے دن کی یہی تفصیلات جمع کی گئی تھیں۔ پھر خواتین سے کام کی ذمے داریوں اور خود ان کے مستقبل کے عزائم کے بارے میں بھی پوچھا گیا تھا۔


خلاصہ یہ ہے کہ جب خواتین پرسکون اور پورے وقت کی نیند لیتی ہیں تو ان کا مزاج بہتر ہوتا ہے، وہ قدرے زیادہ پرعزم ہوتی ہیں اور اپنے اہداف مکمل کرنے میں زیادہ دلچسپی لیتی ہیں۔ بصورتِ دیگر نیند کی کمی ان کے مثبت مزاج کو متاثر کرتی ہے اور وہ اپنے اہداف کی جانب زیادہ توجہ نہیں دیتیں۔

یہ تحقیق ’سیکس رولز‘ نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔ اس مطالعے میں ہر روز دوپہر کے بعد شرکا سے ان کی نیند اور اس وقت کے موڈ کے بارے میں سوالات کیے گئے تھے۔ پھر شام کو گھر جانے سے قبل ان کی ذمے داریوں کے احساس، کام میں دلچسپی اور جوش و عزم کے بارے میں بھی پوچھا گیا تھا۔

مرد اور خواتین، دونوں نے ہی اچھی اور بری نیند کا ذکر کیا لیکن مردوں کے مقابلے میں جس رات خواتین کی نیند متاثر ہوئی ان میں عزم کی کمی، کام سے لگاؤ میں عدم دلچسپی اور مجموعی پھرتی کی کمی محسوس کی گئی جو سوالنامے سے بھی عیاں ہوگئی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ نیند کی کمی خواتین کو بہت زیادہ متاثر کرتی ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ گھروں تک محدود خواتین بھی اگر اپنی نیند پوری کریں تو وہ گھریلو کام کاج کو بہتر انداز میں کرسکتی ہیں جن میں بچوں کی تربیت جیسے اہم امور بھی شامل ہیں۔

Tags

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)