خیبرپختونخوا میں اپوزیشن جماعتوں کی گورنر راج لگانے کی تجویز

Hamza Ali
0

 پشاور: خیبرپختونخوا میں اپوزیشن جماعتوں نے مشاورت کے بعد مزکری قیادت کو وزیراعلی خیبرپختونخوا کے خلاف تحریک عدم اعتماد نہ لانے اور الیکشن کی بجائے گورنر راج لگانے کی تجویز دی ہے۔

پشاور: خیبرپختونخوا میں اپوزیشن جماعتوں نے مشاورت کے بعد مزکری قیادت کو وزیراعلی خیبرپختونخوا کے خلاف تحریک عدم اعتماد نہ لانے اور الیکشن کی بجائے گورنر راج لگانے کی تجویز دی ہے۔  خیبرپختونخوا میں آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اپوزیشن جماعتوں میں رابطے شروع ہوگئے ہیں، زرائع کے مطابق اے این پی ، جے یو آئی اور مسلم لیگ نواز کے درمیان رابطہ ہوا ہے اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے مشاورت کی گئی۔  ذرائع کے مطابق اپوزیشن ارکان میں وزیراعلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد نہ لانے اور اسمبلی تحلیل ہونے کی صورت میں گورنرراج لگانے کے حوالے سے مشاورت کی گئی ہے، تاہم حتمی فیصلہ مرکزی لیڈرشپ کی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔ اس حوالے سے خیبرپختونخو اسمبلی میں لیگی رکن اختیار ولی نے بتایا کہ اسمبلیاں تحلیل کرنےکے لیے چھ روز کا وقت دیا گیا ہے، یعنی عمران خان اسمبلیوں کی تحلیل نہیں چاہتے کہ اگر یہ حکومت ختم کردیں تو ان کے مزے ختم ہوجائیں گے، انہوں نے کہا کہ آئندہ کے لیے لائحہ عمل کے لیے مشاورت جاری ہے اور جو فیصلہ ہوا مرکزی قیادت کی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔  حکومتی ترجمان بیریسٹر محمد علی سیف نے بتایا کہ اسمبلیوں کی تحلیل کے حوالے سے اپوزیشن کا اپنا موقف ہے لیکن ہم نے فیصلہ کرلیا ہے اسمبلیاں تحلیل کرنی ہیں، پارٹی چیرمین عمران خان نے اسمبلی تحلیل کرنے کی تاریخ دے دی ہے تو 23 دسمبر کو اسمبلی تحلیل ہوگی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد قانون کے مطابق 90 روز کے اندر الیکشن کرانا ہوتے ہیں۔  ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے راستہ کلیئر ہے اگر گورنر راج لگانے کی کوشش کی جاتی ہے  تو یہ بلا جواز ہوگا گورنر راج لگانے کے لیے جواز بتایا جاتا ہے اس کے لیے صدر مملکت کی منظوری چاہیے بغیر کسی وجہ کے گورنر راج نہیں لگایا جاسکتا اور اس کے خلاف عدالت میں بھی انھیں شکست ہوگی۔  عمران خان کی جانب سے اسمبلیوں کی تحلیل میں چھ روز کا وقفہ دیا گیا ہے اس دوران وزرااعلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جاتی ہے تو وزراء کے پاس اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اختیار ختم ہوجائے گا اور تحریک عدم لانے کی تحریک نمٹائے جانے تک اسمبلی تحلیل نہیں کی جاسکی گی۔

خیبرپختونخوا میں آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اپوزیشن جماعتوں میں رابطے شروع ہوگئے ہیں، زرائع کے مطابق اے این پی ، جے یو آئی اور مسلم لیگ نواز کے درمیان رابطہ ہوا ہے اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے مشاورت کی گئی۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن ارکان میں وزیراعلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد نہ لانے اور اسمبلی تحلیل ہونے کی صورت میں گورنرراج لگانے کے حوالے سے مشاورت کی گئی ہے، تاہم حتمی فیصلہ مرکزی لیڈرشپ کی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

اس حوالے سے خیبرپختونخو اسمبلی میں لیگی رکن اختیار ولی نے بتایا کہ اسمبلیاں تحلیل کرنےکے لیے چھ روز کا وقت دیا گیا ہے، یعنی عمران خان اسمبلیوں کی تحلیل نہیں چاہتے کہ اگر یہ حکومت ختم کردیں تو ان کے مزے ختم ہوجائیں گے، انہوں نے کہا کہ آئندہ کے لیے لائحہ عمل کے لیے مشاورت جاری ہے اور جو فیصلہ ہوا مرکزی قیادت کی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

حکومتی ترجمان بیریسٹر محمد علی سیف نے بتایا کہ اسمبلیوں کی تحلیل کے حوالے سے اپوزیشن کا اپنا موقف ہے لیکن ہم نے فیصلہ کرلیا ہے اسمبلیاں تحلیل کرنی ہیں، پارٹی چیرمین عمران خان نے اسمبلی تحلیل کرنے کی تاریخ دے دی ہے تو 23 دسمبر کو اسمبلی تحلیل ہوگی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد قانون کے مطابق 90 روز کے اندر الیکشن کرانا ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے راستہ کلیئر ہے اگر گورنر راج لگانے کی کوشش کی جاتی ہے  تو یہ بلا جواز ہوگا گورنر راج لگانے کے لیے جواز بتایا جاتا ہے اس کے لیے صدر مملکت کی منظوری چاہیے بغیر کسی وجہ کے گورنر راج نہیں لگایا جاسکتا اور اس کے خلاف عدالت میں بھی انھیں شکست ہوگی۔

عمران خان کی جانب سے اسمبلیوں کی تحلیل میں چھ روز کا وقفہ دیا گیا ہے اس دوران وزرااعلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جاتی ہے تو وزراء کے پاس اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اختیار ختم ہوجائے گا اور تحریک عدم لانے کی تحریک نمٹائے جانے تک اسمبلی تحلیل نہیں کی جاسکی گی۔

 

Tags

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)