پی ٹی آئی کا شریف خاندان کے کرپشن کیسز ختم ہونے کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان

Hamza Ali
0

 لاہور: تحریک انصاف نے شہباز شریف، مریم نواز، حمزہ شہباز اور دیگر کی کرپشن کیسز میں بریت کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

لاہور: تحریک انصاف نے شہباز شریف، مریم نواز، حمزہ شہباز اور دیگر کی کرپشن کیسز میں بریت کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔  اس بات کا اعلان پی ٹی آئی رہنماؤں شاہ محمود قریشی اور فواد چوہدری نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں کیا۔ فواد چوہدری نے کہا کہ شریف خاندان کی مختلف مقدمات میں ضمانت و بریت خلاف تحریک انصاف نے آرٹیکل 184 کے تحت سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، سپریم کورٹ نے ایک سوموٹو نوٹس لیا ہوا ہے اس میں ہم فریق بنیں گے۔   انہوں ںے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ مریم نواز، شہباز شریف، حمزہ شہباز کے کرپشن کیسز سپریم کورٹ میں کھولے جائیں، جس طرح ان کی اپیلیں فائل ہوئیں اور ان پر فیصلے ہوئے سپریم کورٹ ان پر نظرثانی کرے، شریف خاندان نے پاکستان پر اتنے بڑے ڈاکے ڈالے ہیں اس طرح سے اگر وہ سارا پیسہ لے کر برطانیہ چلے جائیں گے تو یہاں کے 20 کروڑ عوام کی جو حق تلفی ہوئی اس کا مداوا کون کرے گا؟  انہوں نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ جس طرح عمران خان کی نااہلی کے کیسز تیزی سے سنے جارہے ہیں اسی طرح ان کے خلاف درخواست کو بھی تیزی کے ساتھ سنا جائے، اصل رقم یہ ہے کہ شریف فیملی ملک سے باہر لے گئی۔  شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے 123 استعفی اس وقت کے اسپیکر قاسم سوری کے حوالے کردیے تھے مگر موجودہ اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے حکومت کے ایما پر استعفوں کی منظوری میں من پسندی کا مظاہرہ کیا اور چن کر 11 حلقوں کا انتخاب کیا اور وہاں سے استعفی منظور کیے، اگر منظور کرنے تھے تو سارے کرتے ورنہ ایک بھی نہ کرتے اس کے باوجود ان حلقوں میں پی ڈی ایم کے امیدواروں کو شکست ہوئی اور 75 فیصد نشستیں ہمیں ملیں۔   پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پی ٹی آئی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرچکی ہے اور ایک بار پھر اس فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے میں بحیثیت وائس چیئرمین پی ٹی آئی اسپیکر کو خط بھیج رہا ہوں کہ وہ ہمارے مستعفی ارکان اسمبلی کو جلد ازجلد طلب کریں ہم پیش ہونے کو تیار ہیں اور چاہتے ہیں کہ اپنے استعفے کی فیصلے کی تجدید کریں، اسپیکر ہمیں اجتماعی یا انفرادی جس طرح چاہیں بلالیں ہم آنے کو تیار ہیں۔  فواد حسین چوہدری نے کہا کہ کل سپریم کورٹ میں حکومت کی جانب سے غلط بیانی کی گئی کہ پی ٹی آئی کے مستعفی ارکان اسمبلی تنخواہیں وصول کررہے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ اپریل کے بعد سے کسی رکن کو تنخواہ نہیں ملی، اس معاملے کو چیک کیا جائے کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ ہمارے نام پر تنخواہیں نکال کر خود کھا گئے ہوں، ممکن ہے کہ غیرملکی دورے ہمارے پیسوں سے ہورہے ہوں۔  ان کا کہنا تھا کہ ہم تمام نشستوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کرچکے ہیں انہیں تسلیم کیا جائے اور انتخابات کرائے جائیں، آج اسپیکر کو دوبارہ خط لکھ دیا گیا ہے، اسمبلیاں ہرصورت تحلیل ہونی ہیں، سترہ یا 23 دسمبر کوئی بھی تاریخ ہوسکتی ہے فیصلہ عمران خان کریں گے، 70 فیصد ملک الیکشن کی طرف جائے گا، ہماری طرف ہے کہ ملک عام انتخابات کی طرف جائے کیوں کہ ملکی تباہی کی جانب گامزن ہے۔  پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ ہم نے انتخابات کے لیے ملک کے تمام مقدر حلقوں سے اپیل کردی ہے، سیاست میں جو مداخلت ہورہی ہے اور جو نہیں ہورہی اس کا معلوم ہے، ملک کی نئی لیڈر شپ سے بڑی امیدیں ہیں اور امید کرتے ہیں کہ تمام ادارے پاکستان کا استحکام کی جانب لے جانے میں کردار ادا کریں گے۔  ایک سوال پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت مذاکرات میں بالکل سنجیدہ نہیں اور وہ کسی بھی طرح انتخابات کرانا نہیں چاہتی وہ اپنے اوپر قائم کیسز سے مکمل چھٹکارا چاہتی ہے، ان کے کچھ کیسز ختم ہوچکے ہیں اور کچھ باقی ہیں جب تک تمام کیسز ختم نہیں ہوتے حکومت نہ اسمبلیوں کی تحلیل چاہے گی اور نہ انتخابات۔

اس بات کا اعلان پی ٹی آئی رہنماؤں شاہ محمود قریشی اور فواد چوہدری نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں کیا۔ فواد چوہدری نے کہا کہ شریف خاندان کی مختلف مقدمات میں ضمانت و بریت خلاف تحریک انصاف نے آرٹیکل 184 کے تحت سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، سپریم کورٹ نے ایک سوموٹو نوٹس لیا ہوا ہے اس میں ہم فریق بنیں گے۔

انہوں ںے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ مریم نواز، شہباز شریف، حمزہ شہباز کے کرپشن کیسز سپریم کورٹ میں کھولے جائیں، جس طرح ان کی اپیلیں فائل ہوئیں اور ان پر فیصلے ہوئے سپریم کورٹ ان پر نظرثانی کرے، شریف خاندان نے پاکستان پر اتنے بڑے ڈاکے ڈالے ہیں اس طرح سے اگر وہ سارا پیسہ لے کر برطانیہ چلے جائیں گے تو یہاں کے 20 کروڑ عوام کی جو حق تلفی ہوئی اس کا مداوا کون کرے گا؟


انہوں نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ جس طرح عمران خان کی نااہلی کے کیسز تیزی سے سنے جارہے ہیں اسی طرح ان کے خلاف درخواست کو بھی تیزی کے ساتھ سنا جائے، اصل رقم یہ ہے کہ شریف فیملی ملک سے باہر لے گئی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے 123 استعفی اس وقت کے اسپیکر قاسم سوری کے حوالے کردیے تھے مگر موجودہ اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے حکومت کے ایما پر استعفوں کی منظوری میں من پسندی کا مظاہرہ کیا اور چن کر 11 حلقوں کا انتخاب کیا اور وہاں سے استعفی منظور کیے، اگر منظور کرنے تھے تو سارے کرتے ورنہ ایک بھی نہ کرتے اس کے باوجود ان حلقوں میں پی ڈی ایم کے امیدواروں کو شکست ہوئی اور 75 فیصد نشستیں ہمیں ملیں۔

پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پی ٹی آئی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرچکی ہے اور ایک بار پھر اس فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے میں بحیثیت وائس چیئرمین پی ٹی آئی اسپیکر کو خط بھیج رہا ہوں کہ وہ ہمارے مستعفی ارکان اسمبلی کو جلد ازجلد طلب کریں ہم پیش ہونے کو تیار ہیں اور چاہتے ہیں کہ اپنے استعفے کی فیصلے کی تجدید کریں، اسپیکر ہمیں اجتماعی یا انفرادی جس طرح چاہیں بلالیں ہم آنے کو تیار ہیں۔

فواد حسین چوہدری نے کہا کہ کل سپریم کورٹ میں حکومت کی جانب سے غلط بیانی کی گئی کہ پی ٹی آئی کے مستعفی ارکان اسمبلی تنخواہیں وصول کررہے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ اپریل کے بعد سے کسی رکن کو تنخواہ نہیں ملی، اس معاملے کو چیک کیا جائے کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ ہمارے نام پر تنخواہیں نکال کر خود کھا گئے ہوں، ممکن ہے کہ غیرملکی دورے ہمارے پیسوں سے ہورہے ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم تمام نشستوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کرچکے ہیں انہیں تسلیم کیا جائے اور انتخابات کرائے جائیں، آج اسپیکر کو دوبارہ خط لکھ دیا گیا ہے، اسمبلیاں ہرصورت تحلیل ہونی ہیں، سترہ یا 23 دسمبر کوئی بھی تاریخ ہوسکتی ہے فیصلہ عمران خان کریں گے، 70 فیصد ملک الیکشن کی طرف جائے گا، ہماری طرف ہے کہ ملک عام انتخابات کی طرف جائے کیوں کہ ملکی تباہی کی جانب گامزن ہے۔

پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ ہم نے انتخابات کے لیے ملک کے تمام مقدر حلقوں سے اپیل کردی ہے، سیاست میں جو مداخلت ہورہی ہے اور جو نہیں ہورہی اس کا معلوم ہے، ملک کی نئی لیڈر شپ سے بڑی امیدیں ہیں اور امید کرتے ہیں کہ تمام ادارے پاکستان کا استحکام کی جانب لے جانے میں کردار ادا کریں گے۔

ایک سوال پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت مذاکرات میں بالکل سنجیدہ نہیں اور وہ کسی بھی طرح انتخابات کرانا نہیں چاہتی وہ اپنے اوپر قائم کیسز سے مکمل چھٹکارا چاہتی ہے، ان کے کچھ کیسز ختم ہوچکے ہیں اور کچھ باقی ہیں جب تک تمام کیسز ختم نہیں ہوتے حکومت نہ اسمبلیوں کی تحلیل چاہے گی اور نہ انتخابات۔

Tags

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)